9 فروری 2012 - 20:30

ایسےعالم میں جب بحرین میں عوام کی سرکوبی اور بدامنی کاسلسلہ جاری ہے، بحرینی شخصیتوں نے امریکہ پر آل خلیفہ کےجرائم میں ملوث ہونےکاالزام لگایاہے۔

ابنا: ایسی تصاویرمنظرعام پرآئي ہیں جن ميں امریکی فوجیوں کو بحرینی سیکورٹی فورس کومظاہرین کوکچلنےکی ٹریننگ دیتےہوئےدکھایاگیاہے۔

جمعیت وفاق بحرین کےایک لیڈر نے ان تصاویرکےمنظرعام پرآنے کاراز فاش کرتےہوئے آل خلیفہ کےجرائم میں امریکہ کےشریک ہونے کااعلان کیاہے۔ واضح رہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کاپانچواں فوجی بیڑا تعینات ہے اورکویت ، عمان ، قطر، سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کی مانند وہ بھی امریکہ سےاسلحےاورفوجی سازوسامان خریدتاہے۔

ابھی حال ہی میں ستائیس جنوری کو امریکی وزارت خارجہ نےایک بیان جاری کرکے اعلان کیاہے کہ واشنگٹن بحرین کوایک ملین ڈالرسےزیادہ مالیت کےفوجی سازوسامان بیچنے کی کوشش کررہاہے۔ فروری دوہزارگیارہ سےاب تک دسیوں بحرینی آل خلیفہ کےفوجیوں کےہاتھوں مارےجاچکےہيں جبکہ ایک بڑی تعداد تشدد کےنتیجےمیں زخمی اور گرفتارکی جاچکی ہے۔

بحرینی عوام کاقتل اورسرکوبی کی ہمیشہ ہی امریکہ نےحمایت کی ہے تاکہ آل خلیفہ کواقتدارمیں باقی رکھ سکے۔اس کےباوجود بحرینی عوام اپنی تحریک کےایک سال پورےہونےکی مناسبت سےچودہ فروری کوشہداءاسکوائرپرعظیم الشان مظاہرہ کرکے شہداء بحرین سےتجدیدعہدکرنےکااعلان کیاہے۔

چودہ فروری انقلاب کےترجمان نے اس سلسلےمیں کہاہے کہ بحرینی عوام چودہ فروری کومنامہ کےشہداء اسکوائرپربڑی تعداد میں جمع ہوکر ایک بارپھراپنےجائزمطالبات پرتاکیدکریں گے۔شہداءاسکوائردرحقیقت وہی اللولوہ اسکوائرہے جہاں آل خلیفہ نےبڑی تعداد میں مظاہرین کوشہید اورزخمی کرنےکےبعداللولوہ اسکوائرکو ڈھادیاتھا۔

بحرینی عوام چودہ فروری کوتحریک انقلاب کوایک سال پورا ہونےپرپھرشہداء اسکوائرپرجمع ہوں گے تاکہ ایک بارپھراپنےملک میں تبدیلی لانےکےعزم پرتاکیدکریں۔فعال بحرینیوں کاکہناہےکہ آل خلیفہ کی حکومت کی سرنگونی تک ان کی تحریک جاری رہےگی اور اب ان کےلئے پیچھےہٹنےکاکوئی راستہ نہيں ہے ۔انقلابیوں نےاعلان کیاہےکہ وہ جلدہی آل خلیفہ سےحکومت چھین کرعوام کےحوالےکرنےکےلئے ملک سےباہر ایک عبوری حکومت تشکیل دیں گے۔

اسی دوران ،ماہرین نےیہ بھی خبردی ہےکہ سعودی عرب اور بحرین کےبادشاہ کےدرمیان پیغامات کاسلسلہ بڑہ گیاہے اورطرفین نے ایک کنفیڈریشن قائم کرنےپراتفاق کرلیاہے ۔ اس قسم کامعاہدہ، بحرین کوسعودی عرب سےملحق کرنےاور اس ملک کوسعودی عرب کی حکمرانی میں دینےکےمترادف ہے اوریہ کوئی ایسامسئلہ نہيں ہے جسےبحرینی عوام قبول کریں گے۔ان تمام باتوں کےپیش نظر ایسانظرآتاہے کہ بحرین میں سرکوبی کےسلسلےمیں شدت آل خلیفہ کےلئےبرعکس نتیجہ نکلاہے اوراس سےبحرین کےسیاسی گروہ اور عوام اپنےمقاصد پرثابت قدم رہنےکےلئے مزید پرعزم ہوگئےہیں۔

 .......

/169